پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین ہلاک جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ ریاست پر حملہ ہے۔ دہشت گردوں کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچائیں گے۔ قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ جمعرات کو کوئٹہ سے مستونگ جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ’گھات لگا کر کیا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
اس قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی علاقائی ’ولایتِ پاکستان‘ شاخ نے قبول کی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا۔ بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی۔ امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔‘
مستونگ میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اس کی سب تحصیل کھڈ کوچہ میں گذشتہ شب کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے خلاف وکلا نے آج کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے بار ایسوسی ایشن کے صدر عطااللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بار کونسل، ہائیکورٹ بار اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر وکلا تنظیموں کی جانب سے جمعے اور سنیچر کو بھی اس واقعے کے خلاف ہڑتال ہو گی اور وکلا عدالتوں میں بطور احتجاج پیش نہیں ہوں گے۔