1

بلوچستان بار کونسل کی دہشت گردی کے خلاف صوبہ بھر میں ہڑتال، عدالتی کارروائیوں کا مکمل بائیکاٹ

Jul 9, 2026

بلوچستان بار کونسل کی اپیل پر صوبے میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور بے گناہ شہریوں و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی شہادتوں کے خلاف جمعرات کے روز کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں وکلا برادری نے مکمل ہڑتال کرتے ہوئے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔ احتجاج کے دوران وکلا نے اپنے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر دہشت گردی کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور حکومت سے امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اور مثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔بلوچستان بار کونسل کی احتجاجی کال پر صوبے کے تمام اضلاع میں وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے، جس کے باعث بلوچستان ہائی کورٹ، سیشن کورٹس، سول کورٹس، فیملی کورٹس، جوڈیشل مجسٹریٹس اور دیگر ماتحت عدالتوں میں معمول کی عدالتی کارروائیاں شدید متاثر رہیں۔ وکلا کی عدم موجودگی کے باعث بیشتر مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی، جبکہ صرف انتہائی ضروری نوعیت کے چند مقدمات کی محدود کارروائی انجام دی گئی۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ، سیشن کورٹ، سول کورٹس اور دیگر عدالتی مراکز میں وکلا کے مکمل بائیکاٹ کے باعث عدالتوں کے احاطوں میں غیر معمولی سناٹا رہا۔ مقدمات کی پیروی کے لیے آنے والے سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ وکلا نے سیاہ پٹیاں باندھ کر دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے شہریوں، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔بلوچستان بار کونسل اور مختلف بار ایسوسی ایشنز کے رہنماں نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی، بدامنی اور تشدد کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور عوام شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، ایسے حالات میں وکلا برادری اپنی آئینی، قانونی اور قومی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے خاموش نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ وکلا ہمیشہ آئین، قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں اور دہشت گردی، انتہا پسندی اور ہر قسم کے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بحالی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جسے ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔بار کونسل کے نمائندوں نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، جبکہ صوبے بھر میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مثر، مربوط اور دیرپا سکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔یو این اے کے مطابق احتجاج اور عدالتی بائیکاٹ کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں عدالتی امور شدید متاثر ہوئے اور متعدد مقدمات کی سماعت آئندہ تاریخوں تک ملتوی کر دی گئی۔ وکلا برادری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف آئینی اور جمہوری انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام اور قانونی برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ صوبے میں امن، انصاف اور قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں