Jul 16, 2026 |
پنجاب بھر میں اوور اسپیڈنگ کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے نتیجے میں رواں ماہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں اوور اسپیڈنگ کے واقعات میں 29 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ترجمان کے مطابق رواں ماہ اوور اسپیڈنگ پر ایک ہزار سے زائد شہریوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی، جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 700 سے زائد گاڑیوں کے مالکان کو ای چالان بھی جاری کیے گئے۔سیف سٹی کے جدید کیمروں کے ذریعے صوبہ بھر میں اوور اسپیڈنگ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون مسلسل جاری ہے۔ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے بتایا کہ صوبے بھر میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے رفتار کی حد 60 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے، جبکہ حد رفتار کی نگرانی اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے لیے سپیڈ گن مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اوور اسپیڈنگ کے خلاف مثر کارروائیوں کے باعث ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے، اور شہریوں سے اپیل کی کہ اپنی اور دوسروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مقررہ حد رفتار کی پابندی کو یقینی بنائیں۔دوسری جانب چیف ٹریفک آفیسرسید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق کریک ڈائون کے دوران کم عمر ڈرائیورز کے خلاف چالان کے ساتھ ان کی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بھی بند کر کے تھانوں میں منتقل کی جائیں گی۔ سی ٹی او کے مطابق لرنر پرمٹ یا ایکسپائر لائسنس کے ساتھ گاڑی چلانے پر 5 ہزار روپے جبکہ موٹرسائیکل چلانے پر 2 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ موٹرسائیکل پر تین سوار افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ کار یا موٹرسائیکل لائسنس پر کمرشل گاڑی چلانے کی اجازت نہیں، جبکہ بسوں، ویگنوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے پی ایس وی لائسنس لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹرک، ٹرالر اور دیگر ہیوی وہیکلز کے ڈرائیورز کے پاس ایچ ٹی وی لائسنس ہونا ضروری ہے۔