Jul 08, 2026 |
بین الاقوامی, اہم خبریں, ہیڈلاینز
متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت (AI) سے وابستہ شعبوں میں روزگار کے مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جبکہ اے آئی کی مہارت رکھنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی آڈٹ اور مشاورتی ادارے PwC کی 2026 گلوبل اے آئی جابز بیرو میٹر رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی مہارت رکھنے والے ملازمین دیگر کارکنوں کے مقابلے میں 92 فیصد تک زیادہ تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران متحدہ عرب امارات میں اے آئی مہارتوں کی شرط رکھنے والی ملازمتوں کا تناسب ایک فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد تک پہنچ گیا، جس کے باعث ملک عالمی درجہ بندی میں 21ویں سے 13ویں نمبر پر آ گیا۔اسی عرصے میں اے آئی سے متعلق ملازمتوں کے اشتہارات کی تعداد بھی 4 ہزار 600 سے بڑھ کر 12 ہزار 200 ہو گئی، جو اس شعبے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ادارے اب صرف اے آئی سسٹمز تیار کرنے والے ماہرین ہی نہیں، بلکہ ایسے پیشہ ور افراد بھی تلاش کر رہے ہیں جو روزمرہ کے دفتری امور میں مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کو مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔ اسی لئے فنانس، مارکیٹنگ، انسانی وسائل (HR)، کنسلٹنگ اور دیگر شعبوں میں بھی اے آئی مہارت رکھنے والے افراد کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2030 تک متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مجموعی طور پر افرادی قوت کی طلب میں 11 فیصد اضافے کی توقع ہے جبکہ مصنوعی ذہانت سے لیس اداروں میں پیداواری صلاحیت 40 فیصد تک بڑھنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت ملازمتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ کام کرنے کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے۔ مستقبل میں اے آئی کی مہارت رکھنے والے افراد کے لیے بہتر روزگار، زیادہ تنخواہ اور ترقی کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے۔