انتباہ: اس رپورٹ میں بچوں کی ہلاکتوں کی دلخراش تفصیلات شامل ہیں۔
امینہ ندیمی احتیاط سے اپنے پرانے سکول کے کچھ بچ جانے والے حصے میں چل رہی ہیں۔
اوپر کی منزل کے تباہ شدہ حصے سے ٹوٹے ہوئے کنکریٹ کے بڑے ٹکڑے خطرناک انداز میں لٹک رہے ہیں۔ چند کلاس روم اب بھی ہیں جن کی شوخ رنگ دیواروں پر غباروں اور پھولوں کی تصاویر بنی ہوئی ہیں۔
33 سالہ معلمہ کو بخوبی یاد ہے کہ کیا چیز کہاں تھی۔ اوپر والی منزل پر لڑکیوں کی کلاسیں تھیں، نیچے لڑکوں کی کلاسیں، ہیڈ ٹیچر کا دفتر اور نماز کا کمرہ۔
میناب کے شجرہ طیبہ پرائمری سکول، جہاں وہ پہلی جماعت کی بچیوں کو پڑھاتی تھیں، میں اب ان کی کلاس کا صرف ملبہ باقی رہ گیا ہے۔ تباہ شدہ کلاسوں میں بچوں کی کرسیاں اور سجی ہوئی دیواریں اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں، سکول پر ہونے والے ایک حملے نے ایک عام ہفتے کی صبح کو اس تنازعے کے سب سے بڑے سانحے میں تبدیل کر دیا اور یہ عام شہریوں کے لیے سب سے مہلک واقعہ ثابت ہوا۔
میناب پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق مجموعی طور پر 156 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 120 بچے بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک حاملہ خاتون اور اس کی کوکھ میں بچہ بھی شامل تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی افواج نے سکول کو نشانہ بنایا، جو پاسدارانِ انقلاب کمپاؤنڈ کے ساتھ واقع ہے اور سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمپاؤنڈ پر کئی بار حملے کیے گئے تھے۔
امریکہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ غالب امکان ہے کہ امریکی افواج نے غیر ارادی طور پر یہ حملہ کیا۔
یہاں کیا ہوا، اس کا درد اب بھی تازہ ہے۔
اساتذہ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ ہر روز اس مقام پر دعا کرتے ہیں۔ امدادی کارکن اب بھی یہاں ہلاک ہونے والوں کی باقیات تلاش کر رہے ہیں۔
اوپری منزل کا بڑا حصہ نیچے والی منزل پر آ گرا تھا۔
امینہ کہتی ہیں کہ ’آپ اسے سکول نہیں کہہ سکتے۔ یہ صرف ایسی دیواریں ہیں جن سے موت، غم اور یہاں بہائے گئے خون کی بو آتی ہے۔‘
ایرانی حکام چاہتے تھے کہ ہم اس سکول کا دورہ کریں۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن نے جس مہم کو ایران کے فوجی اور سکیورٹی ڈھانچے کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کیا، اس کی قیمت عام شہریوں نے انتہائی تباہ کن صورت میں چکائی۔