حتمی منظوری کے بعد پابندی کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
- ویب ڈیسک
- July 12, 2026
وفاقی حکومت نے روایتی سرنجز کے استعمال سے پیدا ہونے والے طبی خطرات کے پیش نظر ملک بھر میں ان پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے روایتی سرنجز پر پابندی کے لیے ورکنگ مکمل کر لی ہے جس کے تحت ایک سے 10 سی سی تک کی تمام مینول سرنجز کی درآمد، تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ روایتی سرنجز پر مکمل پابندی کے لیے یکم جولائی کو جاری کیے گئے حکم نامے میں تبدیلی کی جائے گی۔ اس سے قبل تین اور 10 سی سی کی روایتی سرنجز پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم اب پابندی کا دائرہ تمام روایتی سرنجز تک بڑھانے کی تیاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مخصوص اسپتالوں میں مینول سرنجز کے استعمال کی دی گئی اجازت بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم انسولین سرنجز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
حکام کے مطابق روایتی سرنجز کے دوبارہ استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے۔
حتمی منظوری کے بعد پابندی کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔