1

’میں ابھی زندہ ہوں‘: 26 روز میں 11 کلوگرام وزن کم ہونے کے باوجود سونم وانگچک کا بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی حمایت میں گذشتہ 26 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے انڈیا کے ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کا کہنا ہے کہ ان کا وزن 11 کلوگرام کم ہو چکا ہے لیکن وہ ’اب بھی زندہ ہیں۔‘

59 سالہ وانگچک کو سنیچر کے روز زبردستی احتجاج کے مقام جنتر منتر سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں وہ اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

59 سالہ وانگچک آن لائن طنزیہ تحریک سی جے پی کی حمایت میں احتجاج کر رہے تھے، جو تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مظاہرین نے پیر کے روز انڈین پارلیمان تک مارچ کا منصوبہ بنایا تھا۔

وانگچک شدید گرمی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے اور صرف نمک اور پانی استعمال کر رہے تھے۔

بدھ کی شب ہسپتال کے بستر سے جاری کیے گئے تین منٹ کے ایک ویڈیو بیان میں سونم وانگچک نے کہا: ’حکمران جماعت کے وزرا سمیت متعدد رہنماؤں نے مجھ سے اپیل کی ہے کہ میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دوں۔ میں خود بھی ایسا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرا کام میرے لیے بہت اہم ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت انھیں یہ یقین دہانی نہیں کراتی کہ طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال یا انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی، وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر مجھے جلد یہ یقین دہانی مل جاتی ہے تو میں آج ہی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دوں گا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بدقسمتی سے مجھے یہ ہڑتال جاری رکھنی پڑے گی۔‘

وانگچک نے مزید کہا کہ وہ ’ان تمام طلبہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے پیر کے روز سی جے پی کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران غیر معمولی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں